Friday, April 3, 2020
Home Blog

سورج کی روشنی ہماری جلد پر کیسے اثر انداز ہو تی ہے ؟

0

سورج کی روشنی سردی کے موسم میں بہت ہی مزیدار لگتی ہے ۔ اور وٹا من ڈی کا ذریعہ بھی بنتی ہے ۔جو کہ ہماری ہڈیوں کے لیے بہت اہم ہو تا ہے ۔ لیکن دوسری طرف سورج کی روشنی ہماری جلد کو نقصان بھی پہنچا تی  ہے ۔ سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق اس بات کی تصدیق  ہو چکی ہے ۔ کہ آپ اپنی جلد کو زندگی میں زیادہ عرصے تک صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو جلد پر لگنے والی سورج کی روشنی کو بہت کم کرنا ہو گا۔ لیکن اس سے آپ کو وٹامن ڈی کی کمی بھی ہو سکتی ہے ۔ جو آپ لوگ وٹامن ڈی سپلیمنٹ کے ذریعے پورا کر سکتے ہیں ۔ نیچے دیے گئےچند وہ جلد کے مسائل ہیں۔ جو کہ دھوپ کا ہمارے جسم پر لگنے کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں ۔

وقت سے پہلے جلد پر جھریا ں پڑ جا نا ۔ 

  –

جلد کی رنگت کا کالا یا سانولا ہو جانا ۔

 –

مارے جلد کا غیر متوازن ہو جا نا اور ہماری جلد کا لٹک  جا نا یعنی ڈھیلاہو جانا ۔

۔     کافی دیر تک روزانہ کافی عرصے تک اپنی  جلد کو  سورج کی روشنی کے سامنے رکھنا جلد کینسر کاسبب بھی بن سکتا ہے ۔ اس کےعلاوہ جلد پر خشک قسم کے دھبےبن جا تے ہیں ۔  جتنی ہماری جلد وائٹ ہو تی ہے وہ سورج کی روشنی کو اتنا ہی جزب کر تی ہے ۔ جس کی وجہ سے جلد کے اوپر یہ داغ پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان داغوں پر خراش بھی ہونے کا خدشہ بھی ہو تا ہے ۔ نیچے دیے گئے پیرا گراف میں اب ہم یہ دیکھیں  گےکہ دھوپ   میں ایسی کیا چیز ہے جلد کے مسئلے پیدا ہو تے ہیں۔

سورج کی روشنی کے اجزا
how sun affect on our skin

سورج کی روشنی دو اہم ترین اجزا   میں ہو تی ہے ۔ ایک کو ریڈیو ویو کہتے ہیں۔جبکہ  دوسری یو ۔وی یعنی    الٹرا وائیلٹ ہو تی ہے ۔دھوپ کا  ریڈیو ویو والا جز  نقصان دہ نہیں ہو تا جبکہ الٹرا وائیلٹ بہت نقصان دہ ہو تا ہے ۔ ۔ یہ الٹرا وائیلٹ ریڈی ایشن جلد میں بہت گہرائی میں جذب ہو جاتی  ہیں۔اور ہماری جلد کے اندر موجو د سیلز اور ٹشو کو تباہ کر دیتی ہیں۔ جو بعد میں جھریوں کی اور دھبوں  کی صورت میں  ہماری جلد میں نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔  اگر ہماری جلد سورج کی روشنی کے سامنے آجائے تو یہ ضروری نہیں کہ اس کی وجہ سے  جو بھی مسئلے پیدا ہو تے ہیں وہ    ہو تے ہیں ۔ہماری جلد کے اندر یہ قدرتی صلاحیت موجو دہے ۔ کہ اگر وہ سورج کی روشنی سے ڈیمیج  ہو جائے تووہ دوبارہ اپنے آپ کو  ریکور کر سکتی ہے ۔ لیکن اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پرمننٹ یعنی مستقل جلد کا خراب ہو نا اسی صورت میں ہو تا ہے اگر ہما راروزانہ جلد کو سورج کی روشنی کے سامنے کافی دیر تک رکھیں تو سالوں میں ہماری جلد میں جو مسئلے پیدا ہو جائیں تووہ دوبارہ ٹھیک نہیں ہو سکتے وہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے ۔ اب یہ سینٹیفک ریسرچ ہے کہ اگر  ہمیں زیادہ عرصے تک اپنی جلد کو جوان رکھنا ہے تو جتنا ہو سکے ہمیں سورج کی روشنی سے اپنی جلد کو بچانا چاہیے ۔

اب ہم آپ لو گوں کو وہ حکمتِ عملی بتائیں گے جس کے ذریعے آپ اپنی جلد کو سورج کی روشنی سے بچا سکتے ہیں ۔

سن سکرین :جو کہ ایک کریم کی طرح ہو تی ہے ۔ جس کو لگانے کے بعد ہماری جلد سے سورج کی روشنی جو الٹرا وائیلٹ والا حصہ ہے وہ گزر نہیں پاتا ہم اس کو سن سکرین کہتے ہیں ۔ ہمیں اپنی جلد پر وہ سن سکرین لگانی چاہیے اور اسے لگا نے سے پہلے یعنی باہر سورج کی روشنی میں  نکلنے سےپہلےہمیں بیس سے تیس منٹ  پہلے سن سکرین لگا لینی چاہیے  ۔

2۔     ہمیں لمبی بازو وال ی شرٹ پہننی چاہیے ۔تاکہ سورج کی روشنی ہماری جلد پر نہ لگے ۔

3۔   ہمیں امبریلا یعنی چھتری استعمال کرنی چاہیے تاکہ سورج کی روشنی سے بچ سکیں ۔

4۔    ہم اگر سر پر کوئی ٹوپی رکھیں جو کافی بڑی ہوتاکہ  سورج کی روشنی ہمارےچہرے پر نہ لگ سکے ۔

5 ۔   ہمیں سن گلاسز سیاہ رنگ کے استعمال کرنے چہاہیے  جو کہ خاص طور پہ سورج کی الٹرا وائیلٹ ریڈی ایشن یعنی شعاعوں کو اہماری ہماری آنکھوں اور چہرے تک جانے  سے روکیں ۔ سورج کی یہ شعاعیں نہ صرف آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ آنکھوں کے نیچے ڈاٹ سپاٹ بھی بنا سکتی ہیں ۔

6 ۔    صبح دس بجے سے لے کر 2 بجے تک الٹرا وائیلٹ ریڈی ایشن کی طاقت بہت زیادہ ہو تی ہے تو اس صورت میں ہمیں اپنے آپ کو سورج کی روشنی سے بچائے رکھنا چاہیے   ۔